اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عبدالملک الحوثی نے کہا کہ سعودی حکومت اسلام کی علمبرداری کا دعویٰ کرتی ہے اور اپنے قومی پرچم پر کلمہ توحید درج کیے ہوئے ہے، لیکن اس پر موجود تلوار کبھی امت مسلمہ کے دشمنوں کے خلاف نہیں چلی۔
انہوں نے سوال کیا کہ سعودی جارحیت پسند حکومت نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف کب حقیقی فوجی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے؟
الحوثی نے کہا کہ کشیدگی میں دوبارہ اضافے کے بعد سعودی دشمن نے یمن میں طلبہ، خواتین اور بچوں کو بے رحمی سے نشانہ بنانے کی اپنی سابقہ روش دوبارہ اختیار کرلی ہے اور وہ حقیقتاً بچوں کو قتل کرنے والی حکومت بن چکی ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے کہا کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا راستہ بالکل صہیونی، شیطانی اور ظالمانہ طریقہ کار پر مبنی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ یمنی عوام کا خون بہانے میں شرکت کوئی معمولی یا کم اہم معاملہ ہے۔ الحوثی نے سعودی حکومت کی جانب سے یمنی عوام پر روا رکھے جانے والے ظلم کو عصر حاضر میں ظلم کی بدترین شکلوں میں سے ایک قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ